بھٹکل 10 جولائی (ایس او نیوز) بھٹکل سمیت پورے ملک میں آج عید الاضحیٰ منائی جارہی ہے، اور اِس بار غالباً کافی سالوں بعد ملک کے مسلمان عید الاضحیٰ ایک ساتھ منارہے ہیں۔ چونکہ کرناٹک، کیرالہ، مہاراشٹرا اور ملک کے دیگر کئی حصوں میں اس وقت موسلادھار بارش ہورہی ہے، زیادہ تر شہروں اور علاقوں میں عیدگاہ کے بجائے جامع مساجد میں ہی عید کی دوگانہ ادا کی گئی ۔
بھٹکل کی اہم جامع مساجد میں مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے بڑی جامع مسجد، مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے خلیفہ جامع مسجد، مولانا انصار خطیب مدنی نے نوائط کالونی تنظیم جمعہ مسجد، مولانا ذکریا برماور ندوی نے مدینہ جامع مسجد، مولانا نعمت اللہ عسکری ندوی نے مخدومیہ جامع مسجد اور مولانا امین رکن الدین ندوی نے نور جامع مسجد میں عید کی دوگانہ پڑھائی اور حسب سابق نما ز کے بعد پہلے عربی خطبہ پھر اُس کا اُردو میں ترجمہ پیش کیا جس میں قربانی کی اہمیت ،اس کی فضیلت اور قربانی کے احکامات کے تعلق سے مفصل معلومات فراہم کی گئی۔
جامع مسجد میں ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد العلیم خطیب ندوی نے مسلمانوں کو قربانیوں پر ابھارتے ہوئے کہا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کی دو صفات بہت ہی نمایاں تھیں ،ایک اللہ پر یقین اور دوسری صفت قربانی ، ان کی پوری زندگی انہی دو صفات کے گرد گھومتی ہے۔ بادشاہِ وقت کے سامنے انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر حق بات کہی اور اللہ کے حکم کے سامنے اپنے بیٹے کو قربا
ن کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔مولانا نے کہا کہ حقیقی قربانی یہ ہے کہ اللہ کے دین کے لیے اپنی جان ، دولت ، عہدہ ، اولاد حتی کہ اپنی جان تک کا نذرانہ پیش کرنے کی نوبت آئے تو اس سے بھی دریغ نہ کیا جائے ۔
خلیفہ جامع مسجد میں مسلمانوں کے جم غفیر کو عید کا پیغام پیش کرتے ہوئے مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے کہا کہ عید الاضحیٰ کے ایام میں اللہ کو سب سے پسندیدہ عمل اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ صاحب استطاعت لوگ اللہ کے حضور اپنے جانوروں کی قربانی پیش کرے۔موجودہ حالات کے تناظر میں مولانا نے فرمایا کہ ہم اپنے دین کا تعارف ٹھیک طرح سے برادران اسلام کے سامنے پیش نہیں کرسکے ہیں۔اللہ کے نبی ﷺ کی شخصیت کے تعلق سے ہم نے صحیح تعارف اُن کے سامنے نہیں کرایا جس کے نتیجے میں لوگ اللہ کے نبی ﷺ کی شخصیت کے مقام کو نہ جان سکے اور ان کے تعلق سے اپنی زبان سے نازیبا کلمات نکالنے لگے۔ مولانا نے مسلمانوں کو مایوس نہ ہونے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دعوت کے کام کو اور اللہ کے پیغام کو پوری ہمت، حکمت اور پوری دانائی کے ساتھ اللہ کے بندوں تک پہنچانا ہے۔
نوائط کالونی تنظیم جمعہ مسجد میں ہزاروں فرزندان اسلام سے خطاب کرتے ہوئےمولانا انصار خطیب مدنی نے بتایا کہ قربانی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف خون بہایا جائے، بلکہ اللہ قربانی کے ذریعے اپنے بندوں سے تقویٰ چاہتا ہے، مطلب سمجھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا، شہوات نفسیہ کو کچلنے والے بننا ہوگا، شیطان کے حملوں کا مقابلہ کرنے والے بننا ہوگا، تب جاکر ہم قربانی کے صحیح مقصد کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔ مزید فرمایا کہ ہر سال آنے والی یہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ کے حضور پیش کی گئی قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے، ہمیں اُن کے قربانی کے مقصود اور اُن کے حدف کو اپنی زندگیوں کے اندر جاری کرنا ہے۔ انہوں نے فجر کی نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا بھی قربانی قرار دیا، انہوں نے اپنے اخلاق سے دوسروں کے سامنے اسلام کا بہتر نمونہ پیش کرنے اور قران کی عملی تفسیر پیش کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسی سے قربانی کا اصل مقصود حاصل ہوسکتا ہے۔
آج عید الاضحیٰ کے پہلے دن بھٹکل میں پندرہ سو سے بھی زائد بکروں کی قربانی دی گئی۔ پورے امن و سکون کے ساتھ مسلمانوں نے اپنے اپنے گھروں میں اللہ کے حضور جانوروں کی قربانی دی۔ اگلے تین دنوں میں بھٹکل کے مزید گھروں میں بھی قربانی ہونی ہے اور قربانی کے جانوروں کی تعداد تین ہزار سے بھی متجاوز کرنے کی توقع ہے، مگر خبر ملی ہے کہ اب بھٹکل میں بکروں کا اسٹاک نہ کے برابر ہے اور بکروں کے لئے لوگ اِدھر سے اُدھر چکر کاٹ رہے ہیں۔